7 اشعار

اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میں (ردیف .. ا)

Is darja hua khush ke dara dil se bahut main (radeef .. a)

اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میں (ردیف .. ا)

«اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میں (ردیف .. ا)» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میںخود توڑ دیا بڑھ کے تمناؤں کا دھاگا

تاکہ نہ بنوں پھر کہیں اک بندۂ مجبورہاں قید محبت سے یہی سوچ کے بھاگا

ٹھوکر جو لگی اپنے عزائم نے سنبھالامیں نے تو کبھی کوئی سہارا نہیں مانگا

چلتا رہا میں ریت پہ پیاسا تن تنہابہتی رہی کچھ دور پہ اک پیار کی گنگا

میں تجھ کو مگر جان گیا شمع تمناسمجھی تھی کہ جل جائے گا شاعر ہے پتنگا

آنکھوں میں ابھی تک ہے خمار غم جاناںجیسے کہ کوئی خواب محبت سے ہے جاگا

جو خود کو بدل دیتے ہیں اس دور میں باقرؔکرتے ہیں حقیقت میں وہ سونے پہ سہاگا

— باقر مہدی