4 اشعار

کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں

Kya kya nahin kiya magar un par asar nahin

کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں

«کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 27 سیکنڈ ہے۔

کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیںشاید کہ اپنی سعئ جنوں کار گر نہیں

گھبرا کے چاہتے ہیں کہ گردش میں ہم رہیںمنزل کہیں نہ ہو کوئی ایسا سفر نہیں

مل جائے ایک رات محبت کی زندگیپھر خواہش حیات ہمیں عمر بھر نہیں

آوارگی میں لطف و اذیت کے باوجودایسا نہیں ہوا ہے کہ فکر سحر نہیں

— باقر مہدی