11 اشعار

یہ رات

Yeh raat

یہ رات

«یہ رات» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

ستارے چپ ہیں کہ چلتی ہے تیز تیز ہوایہ رات اپنی محبت کی رات بھی تو نہیں

فضا میں یادوں کے جگنو چمک رہے ہیں ابھیحسین یادوں کو لیکن ثبات بھی تو نہیں

غم حیات سے مانوس ہو چلا ہے دلنئے نئے ہی سہی سانحات بھی تو نہیں

بدل کے رکھ دیں جو لیل و نہار دنیا کےابھی حیات کے وہ حادثات بھی تو نہیں

وہی ہے خون تمنا وہی ہے حسرت غمیہ موت بھی تو نہیں ہے حیات بھی تو نہیں

یہ رات جہد مسلسل کی ایک رات سہیتباہیوں کو لیے بار بار گزرے گی

کوئی بتائے کہاں تک کہ زندگی کی یہ راتفسردہ گزری ہے اور سوگوار گزرے گی

ابھی تو روز یہی فکر ہے جئیں کیسےابھی تو رات یونہی بے قرار گزرے گی

سکون دل کے لیے آج بھی یقیں سا ہےیہی چمن سے خزاں شرمسار گزرے گی

نئے چراغ جلائیں امید فردا سےکبھی تو وادئ غم سے بہار گزرے گی

یہ رات ایک نئی یادگار لائی ہےسجا کے زخموں کے پھولوں کا ہار لائی ہے

— باقر مہدی