5 اشعار

تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے

Tabah ho ke bhi ek apni aan baqi hai

تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے

«تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

تباہ ہو کے بھی اک اپنی آن باقی ہےبغاوتوں کی تڑپ غم کی جان باقی ہے

خلا میں ڈوب کے ہم کو بھی یہ ہوا معلومکہ کچھ نہیں ہے مگر آسمان باقی ہے

یہ مت کہو کہ لٹی کائنات درد تمامکہ زخم زخم یہ سارا جہان باقی ہے

میں کیسے چھوڑ دوں ٹوٹے ہوئے در و دیوارشکستہ خواب کا تنہا مکان باقی ہے

نہ ختم ہوں گے مصائب کے سلسلے باقرؔہزار خار ہوئے امتحان باقی ہے

— باقر مہدی