9 اشعار

ٹوٹے شیشے کی آخری نظم

Toote sheeshe ki aakhri nazm

ٹوٹے شیشے کی آخری نظم

«ٹوٹے شیشے کی آخری نظم» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ٹوٹے شیشے کی آخری نظمبھاگتے وقت کو میں آج پکڑ لایا ہوں

یہ مرا وقت مرے ذہن کی تخلیق سہیرات اور دن کے تسلسل کو پریشاں کر کے

میں نے لمحات کو اک روپ دیاصبح کو رات کی زنجیر سے آزاد کیا

خواب و بیدی کی دیوار گرا دی میں نےزندگی موت سے کب تک یوں ہراساں رہتی

کیا ہوا وقت و حقیقت کا زوالمیں

اپنی ٹوٹی ہوئی زنجیر کہاں دفن کروںہر طرف قبریں مجاور ہیں

دیوتاؤں کے مقدس اجسامہر جگہ دفن ہیں

کوئی ویرانہ نہیں دور تلککیا مجھے اپنے ہی ذہن کے اس گوشے میں

ٹوٹے آدرشوں کے آئینے میںوقت کے عکس کو دفنانا ہے

— باقر مہدی