6 اشعار

آستیں میں سانپ اک پلتا رہا

Aasteen Mein Saanp Ek Pulta Raha

آستیں میں سانپ اک پلتا رہا

«آستیں میں سانپ اک پلتا رہا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

آستیں میں سانپ اک پلتا رہاہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا

آپ تو اک بات کہہ کر چل دیےرات بھر بستر مرا جلتا رہا

ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوئےدل ہمارا پھولتا پھلتا رہا

زندگی کی آس بھی کیا آس ہےموج دریا پر دیا جلتا رہا

اک نظر تنکا بنی کچھ اس طرحدیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا

یہ نشاں کیسے ہیں باقیؔ دیکھناکون دل کی راکھ پر چلتا رہا

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں