8 اشعار

دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے

Dil jins-e-mohabbat ka khareedar nahin hai

دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے

«دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے

ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغراس پر یہ ستم جرأت انکار نہیں ہے

کچھ اٹھ کے بگولوں کی طرح ہو گئے رقصاںکچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے

دل ڈوب گیا لذت آغوش سحر میںبیدار ہے اس طرح کہ بیدار نہیں ہے

ہم اس سے متاع دل و جاں مانگ رہے ہیںجو ایک تبسم کا روادار نہیں ہے

یہ سر سے نکلتی ہوئی لوگوں کی فصیلیںدل سے مگر اونچی کوئی دیوار نہیں ہے

دم سادھ کے بیٹھا ہوں اگرچہ مرے سر پراک شاخ ثمر دار ہے تلوار نہیں ہے

دم لو نہ کہیں دھوپ میں چلتے رہو باقیؔاپنے لیے یہ سایۂ اشجار نہیں ہے

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں