15 اشعار

رنگ دل رنگ نظر یاد آیا

Rang dil rang nazar yaad aaya

رنگ دل رنگ نظر یاد آیا

«رنگ دل رنگ نظر یاد آیا» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

رنگ دل رنگ نظر یاد آیاتیرے جلووں کا اثر یاد آیا

وہ نظر بن گئی پیغام حیاتحلقۂ شام و سحر یاد آیا

یہ زمانہ یہ دل دیوانہرشتۂ سنگ و گہر یاد آیا

یہ نیا شہر یہ روشن راہیںاپنا انداز سفر یاد آیا

راہ کا روپ بنی دھوپ اپنیکوئی سایہ نہ شجر یاد آیا

کب نہ اس شہر میں پتھر برسےکب نہ اس شہر میں سر یاد آیا

گھر میں تھا دشت نوردی کا خیالدشت میں آئے تو گھر یاد آیا

گرد اڑتی ہے سر راہ خیالدل ناداں کا سفر یاد آیا

ایک ہنستی ہوئی بدلی دیکھیایک جلتا ہوا گھر یاد آیا

اس طرح شام کے سائے پھیلےرات کا پچھلا پہر یاد آیا

پھر چلے گھر سے تماشا بن کرپھر ترا روزن در یاد آیا

کسی پتھر کی حقیقت ہی کیادل کا آئینہ مگر یاد آیا

آنچ دامان صبا سے آئیاعتبار گل تر یاد آیا

دل جلا دھوپ میں ایسا اب کےپاؤں یاد آئے نہ سر یاد آیا

گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔاپنی محنت کا ثمر یاد آیا

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں