دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
کلام: باقی صدیقی
دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیںبے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئےکچھ جرأتیں حیات پر الزام بن گئیں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیںبے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئےکچھ جرأتیں حیات پر الزام بن گئیں
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا
بہت قریب سے آواز ایک آئی تھیمگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا