ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے
کلام: باقی صدیقی
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائےراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائے
زندگی حرف غلط ہی نکلیہم نے معنی تو بہت پہنائے
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائےراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائے
زندگی حرف غلط ہی نکلیہم نے معنی تو بہت پہنائے
ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرےآگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے
ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھیزیر دیوار گلستاں ٹھہرے