8 اشعار

ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے

Hum to duniya se bad-gumaan thahere

ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے

«ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرےآگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے

ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھیزیر دیوار گلستاں ٹھہرے

آپ کو کارواں سے کیا مطلبآپ تو میر کارواں ٹھہرے

زندگی چاہتی ہے ہنگامہاور ہم لوگ بے زباں ٹھہرے

کبھی تیری تلاش میں نکلےکبھی بن کر ترا نشاں ٹھہرے

گردش دہر ساتھ ساتھ رہیہم جدھر بھی گئے جہاں ٹھہرے

ہر قدم پر تھا اک صنم خانہکیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے

کچھ تو کج رو جہاں بھی ہے باقیؔاور کچھ ہم بھی قصہ خواں ٹھہرے

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں