کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
کلام: باقی صدیقی
کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو
ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہیہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو
ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہیہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو
خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں
نظر نظر سے نکلتی ہے درد کی ٹیسیںقدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں
کیا لگا تھاکہ خود کو مجھ میں نچوڑ دوگے
پھر ہم سے پوچھو گے غم ہمارےجب دل بھرے گا تو چھوڑ دو گے