7 اشعار

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں

Khabar kuch aisi udai kisi ne gaon mein

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں

«خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے واصف سیفی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

نظر نظر سے نکلتی ہے درد کی ٹیسیںقدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں

ہر ایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہےابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں

غموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہےکہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں

ابھی ہے گوش بر آواز گھر کا سناٹاابھی کوشش ہے بڑی دور کی صداؤں میں

چلے تو ہیں کسی آہٹ کا آسرا لے کربھٹک نہ جائیں کہیں اجنبی فضاؤں میں

دھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقیؔکہ آگ شہر کی اب آ گئی ہے گاؤں میں

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں