بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف
کلام: باصر سلطان کاظمی
بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرفکہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف
تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترےاچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرفکہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف
تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترےاچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف