5 اشعار

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے

Kahan milega woh mujh se agar yahan bhi rahe

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے

«کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہےمری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے

دل خراب یہ خواہش تری عجب ہے کہ وہستم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے

ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یاروجہاں کے قصے سناتے ہو ہم وہاں بھی رہے

رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنامسافروں کی طرح ہم رہے جہاں بھی رہے

جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصرؔکچھ ایسے لوگ یہاں میر کارواں بھی رہے

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں