دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
کلام: باصر سلطان کاظمی
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہوپھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگرپھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہوپھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگرپھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئیوہ چاندنی وہ گھر وہ ہوا یاد آ گئی
جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھےیہ آدھی رات کس کی صدا یاد آ گئی