7 اشعار

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

Hote hain jo sab ke woh kisi ke nahin hote

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

«ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتےاوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے

مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدرتیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے

دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبرداروہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے

ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافلرشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے

اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کاماب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے

ناکامی کی صورت میں ملے طعنۂ نایافتاب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے

شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باصرؔجیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں