کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
کلام: باصر سلطان کاظمی
کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہےمری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے
دل خراب یہ خواہش تری عجب ہے کہ وہستم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہےمری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے
دل خراب یہ خواہش تری عجب ہے کہ وہستم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے
ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتےاوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے
مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدرتیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے