8 اشعار

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے

Yeh nahin hai ke tujhe main ne pukara kam hai

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے

«یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہےمیرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نےجان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے

دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہدوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے

صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بارہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے

ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تل ہم نے بھیہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے

اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میںہم نے ہم راہ ابھی وقت گزارا کم ہے

باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوسہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے

آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔکون سا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں