4 اشعار

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے

Kya zindagi hai apni magar zindagi to hai

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے

«کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے مدثر ثانی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہےجینے کا اپنے پاس بہانہ یہی تو ہے

سوئیں گے ہم بھی چین سے آئے گی وہ بھی راتبھر جائے گا کبھی نہ کبھی زخم ہی تو ہے

ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائےتھوڑی سی دیر کے لیے بارش رُکی تو ہے

باصرِؔ کہاں سے لائیں اب اُس کو ترے لیےیہ بات ہی بہت ہے کہ محفل جمی تو ہے

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں