ایک دروازہ کیا کھلا باہر
کلام: باصر سلطان کاظمی
ایک دروازہ کیا کھلا باہرگھر کا ہر فرد چل دیا باہر
دیکھ یخ بستہ ہے ہوا باہراس طرح ایک دم نہ جا باہر
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
ایک دروازہ کیا کھلا باہرگھر کا ہر فرد چل دیا باہر
دیکھ یخ بستہ ہے ہوا باہراس طرح ایک دم نہ جا باہر
کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہےجینے کا اپنے پاس بہانہ یہی تو ہے
سوئیں گے ہم بھی چین سے آئے گی وہ بھی راتبھر جائے گا کبھی نہ کبھی زخم ہی تو ہے