7 اشعار

جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات

Jaise yeh raat hai ek khwab-e-tilismat ki raat

جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات

«جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی راتمجھ کو لے جائے گی آکر وہ پری رات کی رات

آج کی رات نصیبوں سے ملی ہے ہم کوآج کی رات ہے روحوں سے ملاقات کی رات

میرے کشکول میں دن ڈوبا محبت بھرا دنمیرے کشکول سے ابھری نہیں خیرات کی رات

ہچکچاہٹ نہ جھجھک ہے نہ پریشانی ہےکیا عجب رات ہے بے ساختہ جذبات کی رات

اس میں کیوں ہجر کے دن یاد کیے جائیں گےوصل کی رات نہیں ہوتی خرافات کی رات

ہم جواباً کوئی تاویل بھی دے سکتے نہیںہم پہ اتری ہے عجب طور سوالات کی رات

پڑھ لو تحریر ہے جو لوح ازل پر آزرؔلوٹ کر آتی نہیں کشف و کرامات کی رات

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں