7 اشعار

جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو

Jo rehan rakhe the wapas woh khwab de mujh ko

جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو

«جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے مدثر ثانی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کوکہاں گئیں مری آنکھیں جواب دے مجھ کو

اب اُس کا رنگ مرے خون میں بھی شامل ہےتجھے یہ کس نے کہا تھا گلاب دے مجھ کو

مرے بغیر گزارے ہیں اتنے دن تو نےکہاں گزارے ہیں کچھ تو حساب دے مجھ کو

مجھے بھی پیاس بجھانی ہے اپنے صحرا کیکسی پیالے میں بھر کر سراب دے مجھ کو

میں اپنی موج سے طوفان اُٹھانا چاہتا ہوںسمندروں کی طرح پیچ و تاب دے مجھ کو

تمام عمر محبت میں کاٹ دی میں نےیہ جرم ہے تو سزا دے، عذاب دے مجھ کو

میں جس کو بھرتے ہوئے زیست کر سکوں آزرکوئی تو زخم بہت دیریاب دے مجھ کو

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں