10 اشعار

کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میں

Kab tak phiroonga haath mein kasa utha ke main

کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میں

«کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میں» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میںجی چاہتا ہے بھاگ لوں دنیا اٹھا کے میں

ہوتی ہے نیند میں کہیں تشکیل خد و خالاٹھتا ہوں اپنے خواب کا چہرہ اٹھا کے میں

بعد از صدائے کن ہوئی تقسیم ہست و بودپھرتا تھا کائنات اکیلا اٹھا کے میں

کیوں کر نہ سہل ہو مجھے راہ دیار عشقلایا ہوں دشت نجد کا نقشہ اٹھا کے میں

بڑھنے لگا تھا نشۂ تخلیق آب و خاکوہ چاک اٹھا کے چل دیا کوزہ اٹھا کے میں

ہے ساعت وصال کے ملنے پہ منحصرکس سمت بھاگتا ہوں یہ لمحہ اٹھا کے میں

قربت پسند دل کی طبیعت میں تھا تضادخوش ہو رہا ہوں ہجر کا صدمہ اٹھا میں

اب مجھ کو اہتمام سے کیجے سپرد خاکاکتا چکا ہوں جسم کا ملبہ اٹھا کے میں

اچھا بھلا تو تھا تن تنہا جہان میںپچھتا رہا ہوں خلق کا بیڑا اٹھا کے میں

آزرؔ مجھے مدینے سے ہجرت کا حکم تھاصحرا میں لے کے آ گیا خیمہ اٹھا کے میں

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں