7 اشعار

یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو

Yeh ek faqeer ka hujra hai aa ke chalte bano

یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو

«یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنو» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنوپڑی ہے طاق پہ دنیا اٹھا کے چلتے بنو

جہاں فانی ہے مت سوچنا سکونت کابس اپنے نام کا سکہ بٹھا کے چلتے بنو

اب اسے کے بعد شکاری کمان کھینچے گاتم اس سے پہلے ذرا پھڑ پھڑا کے چلتے بنو

ہے بھیڑساقی کوثر کو دیکھنے کے لیےسب اپنی پیاس بجھاو بجھا کے چلتے بنو

نہیں ہے فائدہ اب کوئی سینہ کوبی کابہانے آئے تھے جو خوں بہا کے چلتے بنو

ہوا ہوں تلخ تو باعث بھی لازمی ہے کوئیمیں تم سے اس لیے روٹھا ہوں تاکہ چلتے بنو

سجی رہے گی یونہی بزم حشر تک آزرتم اپنے شعر سناو سنا کے چلتے بنو

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں