8 اشعار

وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں

Woh mujh ko ek samajhta tha aur hazaar tha main

وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں

«وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے مدثر ثانی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میںشمار ہوتا بھی کیسے کہ بے شمار تھا میں

مجھے سمیٹ لیا ہے تری تمنا نےطلب کی راہ میں بکھرا ہوا غبار تھا میں

اجل کے ہاتھوں سے ٹوٹا تو مجھ کو یاد آیاترا بنایا ہوا ایک شاہکار تھا میں

کہاں کہاں سے نہ آتی تھی خلق دیکھنے کوگئے دنوں میں محبت کی یادگار تھا میں

کچھ اس لیے بھی زیادہ ہے اہمیت میریکہ اس کا پہلا نہیں آخری شکار تھا میں

وہ اک گناہ جو مجھ سے نہ ہو سکا سرزداسی گناہ پہ تا عمر شرم سار تھا میں

اسی لیے تو دکھائی نہیں دیا تم کوغبار دیکھنے والو پسِ غبار تھا میں

نہ جانے بعد مرے ان کا کیا بنا آزروہ ننھے پھول کہ جن کے لیے بہار تھا میں

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں