7 اشعار

شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے

Sheesha waqt mein ab dekhiye kya toot'ta hai

شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے

«شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہےشامؔ ہوتی ہے کہ سورجؔ کا نشہ ٹوٹتا ہے

اس لیے بند ہی رکھتا ہوں میں آنکھیں اپنیدیکھتا ہوں تو مرا دیکھا ہوا ٹوٹتا ہے

کون جھانکے گا مری روح کی گہرائی میںکون دیکھے گا مرے جسم میں کیا ٹوٹتا ہے

ایک ہوتا ہے یہاں آ کے لہو اور پانیجس جگہ ملتا ہے ساحل اسی جا ٹوٹتا ہے

عکس جم جاتے ہیں جب برف کی صورت مجھ میںآئنہ ہوتا ہوا نقش بجا ٹوٹتا ہے

سر بسر وقت کو تجسیم کیا ہے میں نےایک لمحہ سے فقط لمحہ نما ٹوٹتا ہے

آسماں ٹوٹ چکا اپنے سروں پر آزرؔاب تو آنکھوں پہ فقط سیل بلا ٹوٹتا ہے

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں