17 اشعار

آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھی

Aaya nahin hai raah pe charkh-e-kuhan abhi

آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھی

«آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھی» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

آیا نہیں ہے راہ پہ چرخ کہن ابھیخطرے میں دیکھتا ہوں چمن کا چمن ابھی

اٹھیں گے اپنی بزم سے منصور سیکڑوںکام اہل حق کے آئیں گے دار و رسن ابھی

رنج و محن نگاہ جو پھیریں تو پھیر لیںلیکن مجھے عزیز ہیں رنج و محن ابھی

بڑھنے دو اور شوق شہادت عوام میںکچھ بانجھ تو نہیں ہے یہ خاک وطن ابھی

آنکھوں کی سرخیاں ہیں عزائم کا اشتہارسینے سلگ رہے ہیں لگی ہے لگن ابھی

یہ کارواں شناور طوفاں تو ہے مگرچہروں پہ بولتی ہے سفر کی تھکن ابھی

ہیں سامنے ہمارے روایات‌ کارزارباندھے ہوئے ہیں سر سے مجاہد کفن ابھی

بن بن کے جانے کتنے فنا ہوں گے سومناتبستے ہیں ہر گلی میں یہاں بت شکن ابھی

اے شہریار ہم سے شکستہ دلوں میں آتیری طرف سے خلق کو ہے حسن ظن ابھی

رقصاں ابھی ہیں شام غریباں کی جھلکیاںروشن نہیں ہے خندۂ‌ صبح‌ وطن ابھی

جیتے رہیں امید پہ رندان‌ تشنہ کامچلتا نہیں ہے دور شراب کہن ابھی

جن کے لہو سے قصر وفا میں جلے چراغان غم زدوں میں عام ہیں رنج و محن ابھی

گلشن سے پھول چل کے مزاروں تک آ گئےلیکن ہے باغباں کی جبیں پر شکن ابھی

ہے علم کی نگاہ سے پنہاں رہ‌ عملکہتے نہیں کفن کو یہاں پیرہن ابھی

نبض بہار پر ہیں بگولوں کی انگلیاںچلنے کو چل رہی ہے نسیم چمن ابھی

شبنم کے اشک سوکھنے دیتی نہیں فضاہنستا ہے خود بہار چمن پر چمن ابھی

ہر گام ہر مقام پہ کوشش کے باوجوددانشؔ نہ آ سکا مجھے جینے کا فن ابھی

— احسان دانش