9 اشعار

ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا

Hangama-e-khudi se tu be-niyaz ho ja

ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا

«ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جاگم ہو کے بے خودی میں آگاہ راز ہو جا

حد بھی تو چاہیئے کچھ بے اعتنائیوں کیغارت گر تحمل تسکیں نواز ہو جا

اے سرمدی ترانے ہر شے میں سوز بھر دےیہ کس نے کہہ دیا ہے پابند ساز ہو جا

غیرت کی چلمنوں سے آواز آ رہی ہےمحو نیاز مندی آ بے نیاز ہو جا

آ مل کے پھر بنائیں مے خانۂ محبتمیں جرعہ کش بنوں تو پیمانہ ساز ہو جا

سینے میں سوز بن کر کب تک چھپا رہے گاعنوان رازداری تفصیل راز ہو جا

اب سو چکی امیدیں اب تھک چکیں نگاہیںجان نیاز مندی مصروف ناز ہو جا

سوز نظر سے چھلکیں نغمات راز ہستیاے عقدۂ تغافل روداد ناز ہو جا

احسانؔ کاش اٹھیں یہ رنگ و بو کے پردےاے محفل حقیقت بزم مجاز ہو جا

— احسان دانش