9 اشعار

اب کہو کارواں کدھر کو چلے

Ab kaho karwan kidhar ko chale

اب کہو کارواں کدھر کو چلے

«اب کہو کارواں کدھر کو چلے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اب کہو کارواں کدھر کو چلےراستے کھو گئے چراغ جلے

آنسوؤں میں نہا گئیں خوشیاںروٹھ کر جب وہ آ لگے ہیں گلے

عشق غم کو عبور کر نہ سکاراستے کارواں کے ساتھ چلے

ہم پہ گزری ہیں ہجر کی راتیںہم جہنم میں تھے مگر نہ جلے

تھے محبت کی ابتدا کے قصوروہ تبسم جو آنسوؤں میں ڈھلے

خاک سے سینکڑوں اگے خورشیدہے اندھیرا مگر چراغ تلے

چاند ساکت ہے رک گئے تارےاب وہ آئیں تو غم کی رات ڈھلے

مے کدے کا تو ذکر بھی ہے گناہاب حیات حرم پڑی ہے گلے

پرسش حال کا جواب تھا کیاہنس پڑے ہم کہ جلد بات ٹلے

— احسان دانش