9 اشعار

نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگا

Nazar fareb e qaza kha gayi to kya hoga

نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگا

«نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

نظر فریب قضا کھا گئی تو کیا ہوگاحیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا

بزعم ہوش تجلی کی جستجو بے سودجنوں کی زد پہ خرد آ گئی تو کیا ہوگا

نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہیں مگرنئی سحر بھی جو کجلا گئی تو کیا ہوگا

نہ رہنماؤں کی مجلس میں لے چلو مجھ کومیں بے ادب ہوں ہنسی آ گئی تو کیا ہوگا

شباب لالہ و گل کو پکارنے والوخزاں سرشت بہار آ گئی تو کیا ہوگا

خوشی چھنی ہے تو غم کا بھی اعتماد نہ کرجو روح غم سے بھی اکتا گئی تو کیا ہوگا

یہ فکر کر کہ ان آسودگی کے دھوکوں میںتری خودی کو بھی موت آ گئی تو کیا ہوگا

لرز رہے ہیں جگر جس سے کوہساروں کےاگر وہ لہر یہاں آ گئی تو کیا ہوگا

وہ موت جس کی ہم احسانؔ سن رہے ہیں خبررموز زیست بھی سمجھا گئی تو کیا ہوگا

— احسان دانش