7 اشعار

اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہے

Agar mohabbat ke mudda'ee ho to ye ravayyah rawa nahin hai

اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہے

«اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہےجو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہے

یہ روز تجدید عہد الفت یہ روز پیمان دل نوازیہزار تسلیم کر رہا ہوں مگر یقین وفا نہیں ہے

ہے تیرے کافر شباب سے خوب میری معصوم مے گساریسرور کی ایک حد ہے قائم غرور کی انتہا نہیں ہے

عجب نہیں زحمت وفا سے مجھے کسی دن نجات دے دےیہی مری بے زباں محبت جو در خور اعتنا نہیں ہے

نہ جانے کس کس سے دل لگا کر وفا سے مایوس ہو چکا ہوںنظر پریشان شش جہت ہے کوئی بھی درد آشنا نہیں ہے

جتا کے مجبوریٔ محبت امید مہر و وفا کے معنیمیں خود ہوں اپنا سکون دشمن کسی کی کوئی خطا نہیں ہے

بجا بجا بے شمار عارض نظر نظر کو ترس رہے ہیںمگر یہ دل کا معاملہ ہے نگاہ کا واسطہ نہیں ہے

— احسان دانش