7 اشعار

میں عوام میں ہوں لیکن نہیں خوئے عامیانہ

Main awaam mein hoon lekin nahin khoo-e-aamiyana

میں عوام میں ہوں لیکن نہیں خوئے عامیانہ

«میں عوام میں ہوں لیکن نہیں خوئے عامیانہ» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

میں عوام میں ہوں لیکن نہیں خوئے عامیانہنہ عمل خوشامدانہ نہ سخن خوشامدانہ

تری اور زندگی ہے مری اور زندگی ہےمیں بلندیوں کا جویا تو اسیر آشیانہ

مجھے راس ہی نہ آئی کبھی ناقصوں کی صحبتمرے جسم ناتواں میں نہیں روح تاجرانہ

مرے خضر کے قدم ہیں مجھے مشعل منازلمرے دیدۂ طلب میں ہے نگاہ مجرمانہ

غم و رنج کا چھپانا بھی ہے کار ظرف لیکنہے خوشی کو ضبط کرنا رہ و رسم عاقلانہ

تری تمکنت اگر ہے کسی دوسرے کے بل پریہ چلن ہے باغیانہ یہ قدم ہے مجرمانہ

مجھے خضر نو کی حاجت نہیں راہ بندگی میںمرے مسلک وفا میں یہ روش ہے کافرانہ

— احسان دانش