9 اشعار

زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیں

Zindagi mein us ko kaif-e-zindagi hasil nahin

زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیں

«زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیں» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

زندگی میں اس کو کیف زندگی حاصل نہیںجس کا دل راز و نیاز عشق کے قابل نہیں

حسن کے پردے میں ہو سکتا نہیں ہرگز قرارروز اول سے یہ لیلیٰ خوگر محمل نہیں

قدر کر دل کی کہ درگاہ خدا میں اے ندیمدو جہاں کی نعمتیں حاضر ہیں لیکن دل نہیں

ہوشیار اے مست و مدہوش جوانی ہوشیارعشق وہ دریا ہے جو منت کش ساحل نہیں

ضبط نالہ ضبط گریہ ضبط الفت ضبط شوقکس طرح کہہ دوں کہ یہ آسانیاں مشکل نہیں

اپنا رستہ اپنی دھن اپنا تصور اپنا شوقکوئی بھی رہبرو یہاں بیگانۂ منزل نہیں

ہے تصور عشرت ماضی کا آئینہ بدستدل وہی دل ہے مگر وہ گرمئ محفل نہیں

دیر کیا ہے آ مرے دل میں سما جا برق نازشکوہ سنجی فطرت احسان میں داخل نہیں

التماس شوق پر احسانؔ محشر ڈھ گیاان کا شرما کر یہ کہنا میں ترے قابل نہیں

— احسان دانش