13 اشعار

اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیں

Apni ruswai ka ehsaas to ab kuch bhi nahin

اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیں

«اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیں» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

اپنی رسوائی کا احساس تو اب کچھ بھی نہیںہونٹ ہی سن ہیں خموشی کا سبب کچھ بھی نہیں

یہ اجالوں کے جزیرے یہ سرابوں کے دیارسحر‌ و افسوں کے سوا جشن طرب کچھ بھی نہیں

بہہ گئے وقت کے سیلاب میں جسموں کے سہاگاب نہ وہ چشم نہ رخسار نہ لب کچھ بھی نہیں

ریزہ ریزہ ہے کسی خواب‌ زر افشاں کا طلسمفصل گل انجم و مہتاب یہ سب کچھ بھی نہیں

میرے آنسو انہیں کرتے ہیں اجاگر کچھ اورپہلے جو لوگ سبھی کچھ تھے اور اب کچھ بھی نہیں

ہم پہ تو صبح سے روشن تھی یہ شام بے کیفتم کو اس شام سے اندازۂ شب کچھ بھی نہیں

شہر دل شہر خموشاں کی طرح ہے گنجانکتنا آباد مگر شور‌ و شغب کچھ بھی نہیں

یہ جہاں عالم اسباب ہے ناداں نہ بنوکون مانے گا تباہی کا سبب کچھ بھی نہیں

رنگ و بو گل سے مکر جائیں تو رہتا کیا ہےآگ بجھ جائے تو سورج کا لقب کچھ بھی نہیں

خول ہی خول ہے نوخیز دبستان خیالشور ہی شور ہے تخلیق ادب کچھ بھی نہیں

گم رہو گم کہ یہاں جرم ہے اظہار کمالچپ رہو چپ کہ یہاں نام و نسب کچھ بھی نہیں

میری تخریب سے یاروں کا بھلا کیا ہوگامیری پونجی تو بجز ذوق ادب کچھ بھی نہیں

اس طرف وا ہے در رحمت یزداں دانشؔاس طرف وسعت دامان طلب کچھ بھی نہیں

— احسان دانش