13 اشعار

رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیں

Rang-e-tahzeeb-o-tamaddun ke shanasā ham bhi hain

رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیں

«رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیں» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیںصورت آئینہ مرہون تماشا ہم بھی ہیں

حال و مستقبل کا کیا ہم کو سبق دیتے ہیں آپاس قدر تو واقف امروز و فردا ہم بھی ہیں

بادل نا خواستہ ہنستے ہیں دنیا کے لئےورنہ سچ یہ ہے پشیمان تمنا ہم بھی ہیں

کچھ سفینے ہیں کہ طوفاں سے ہے جن کا ساز بازدیکھنے والوں میں اک بیرون دریا ہم بھی ہیں

دیکھنا ہے دیکھ لو اٹھتی ہوئی محفل کا رنگصبح کے بجھتے چراغوں کا سنبھالا ہم بھی ہیں

کاغذی ملبوس میں ابھری ہے ہر شکل حیاتریت کی چادر پہ اک نقش کف پا ہم بھی ہیں

جا بہ جا بکھرے نظر آتے ہیں آثار قدیمپی گئیں جس کو گزر گاہیں وہ دریا ہم بھی ہیں

اس حرم کی زیب و زینت کو خدا رکھے مگرمجرمان عہد و پیمان کلیسا ہم بھی ہیں

ہم سے گونجا ہے عدم آباد کا دشت سکوتعالم ارواح کا پہلا دھماکا ہم بھی ہیں

ہم جب اٹھ جائیں گے یہ عقدہ بھی حل ہو جائے گارونق محفل چراغوں کے علاوہ ہم بھی ہیں

خاک کیوں ہوتا نہیں جل کر حصار آب و گلیہ اگر سچ ہے ترے جلووں کا پردہ ہم بھی ہیں

ہم پہ جانے کون سا طوفان تھوپا جائے گاجانے کس تعزیر کی خاطر گوارا ہم بھی ہیں

یہ سر فہرست اور احسان دانشؔ شادباشمجرموں میں آپ کے نزدیک گویا ہم بھی ہیں

— احسان دانش