7 اشعار

بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابی

Bana den gi dunya ko ek din sharabi

بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابی

«بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابی» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

بنا دیں گی دنیا کو اک دن شرابییہ بد مست آنکھیں یہ ڈورے گلابی

ہیں قصر محبت کے معمار دونوںنگاہوں کا دھوکا دلوں کی خرابی

یہ کفر مجسم یہ زہد سراپایہ گنجان گیسو یہ روئے کتابی

ہر اک شے میں تم مسکراتے ہو گویاہزاروں حجابوں میں یہ بے حجابی

ابھی تک نگاہوں پہ چھائی ہوئی ہےوہ مستی میں ڈوبی ہوئی نیم خوابی

عبث عشق کو انتظار اثر ہےاثر تک کہاں آہ کی باریابی

بجز اس کے احسانؔ کو کیا سمجھئےبہاروں میں کھویا ہوا اک شرابی

— احسان دانش