8 اشعار

رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے

Rumooz-e-be-khudi samjhe na asraar-e-khudi samjhe

رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے

«رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

رموز بے خودی سمجھے نہ اسرار خودی سمجھےبڑی شے ہے اگر اپنی حقیقت آدمی سمجھے

ضیا اندر ضیا تنویر در تنویر ضو در ضوکوئی آخر کہاں تک راز ہائے زندگی

نہیں ہٹتی نظر انجام عالم سے نہیں ہٹتیاسے کوئی خودی گردان لے یا بے خودی سمجھے

بہت مشکل ہے اس معیار کی رندی زمانے میںجو لغزش کو گنہ اور بے خودی کو زندگی سمجھے

جب احساس بلندی پست کر دیتا ہے فطرت کویہ مشکل ہے پھر انساں آدمی کو آدمی سمجھے

جنوں اک منزل بے نام کو طے کرتا جاتا ہےکسے فرصت ہے جو سود‌‌ و زیان زندگی سمجھے

ہمیں تو مدتوں سے جستجو ہے ایسے انساں کیہماری زندگی کو بھی جو اپنی زندگی سمجھے

جلا پاتی ہے اس سے روح دل بیدار ہوتا ہےبڑی مدت میں ہم احسانؔ قدر مفلسی سمجھے

— احسان دانش