7 اشعار

جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گا

Jo le ke un ki tamanna ke khwab niklega

جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گا

«جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گابہ عجز شوق بہ حال خراب نکلے گا

جو رنگ بانٹ کے جاتا ہے تنکے تنکے کوعدو زمیں کا یہی آفتاب نکلے گا

بھری ہوئی ہے کئی دن سے دھند گلیوں میںنہ جانے شہر سے کب یہ عذاب نکلے گا

جو دے رہے ہو زمیں کو وہی زمیں دے گیببول بوئے تو کیسے گلاب نکلے گا

ابھی تو صبح ہوئی ہے شب تمنا کیبہیں گے اشک تو آنکھوں سے خواب نکلے گا

مرے گناہ بہت ہیں مگر تقابل میںاسی کا لطف و کرم بے حساب نکلے گا

ملا کسی کو نہ دانشؔ کچھ آرزو کے خلافپس فنا بھی یہی انتخاب نکلے گا

— احسان دانش