11 اشعار

بسا اوقات مایوسی میں یہ عالم بھی ہوتا ہے

Basa auqat mayusi mein ye aalam bhi hota hai

بسا اوقات مایوسی میں یہ عالم بھی ہوتا ہے

«بسا اوقات مایوسی میں یہ عالم بھی ہوتا ہے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

بسا اوقات مایوسی میں یہ عالم بھی ہوتا ہےتبسم کی تہوں میں اہتمام غم بھی ہوتا ہے

خوشی تنہا نہیں آتی جلو میں غم بھی ہوتا ہےجہاں ہنستی ہیں کلیاں گریۂ شبنم بھی ہوتا ہے

نئی تہذیب کے معمار شاید اس سے غافل ہیںبہ ایں آثار عالم درہم و برہم بھی ہوتا ہے

جو آنکھیں گھونگھٹوں میں روز کے فاقوں سے پر نم ہیںان آنکھوں میں فسون عصمت مریم بھی ہوتا ہے

بہ ایمائے خرد تم دیکھتے ہو جس کو نفرت سےوہ دیوانہ خرد کی اصل کا محرم بھی ہوتا ہے

رباب زندگی کے زمزموں پر جھومنے والےہر اک نغمے میں نا معلوم سا ماتم بھی ہوتا ہے

وہ انساں ناز کرتا ہے جو اول سے شرافت پربہکتا ہے تو ننگ عظمت آدم بھی ہوتا ہے

جوانی سیل شعر و بادۂ نغمہ سہی لیکنیہ طوفان لطافت خود بخود مدھم بھی ہوتا ہے

جسے کوئی سمجھ لے سادگی سے حاصل ہستیوہ جب حاصل نہیں ہوتا تو آخر غم بھی ہوتا ہے

تبسم پھول برساتا ہے جن رنگین ہونٹوں سےانہی ہونٹوں پہ اک دن نالۂ پیہم بھی ہوتا ہے

بجز ذات خدا احسانؔ کوئی بھی نہیں اپناسنا تھا لاکھ دشمن ہوں تو اک ہمدم بھی ہوتا ہے

— احسان دانش