16 اشعار

کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا

Kal raat kuchh ajeeb samaan gham-kade mein tha

کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا

«کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

کل رات کچھ عجیب سماں غم کدے میں تھامیں جس کو ڈھونڈھتا تھا مرے آئنے میں تھا

جس کی نگاہ میں تھیں ستاروں کی منزلیںوہ میر کائنات اسی قافلے میں تھا

رہ گیر سن رہے تھے یہ کس جشن‌ نو کا شورکل رات میرا ذکر یہ کس سلسلے میں تھا

رقصاں تھے رند جیسے بھنور میں شفق کے پھولجو پاؤں پڑ رہا تھا بڑے قاعدے میں تھا

چھڑکا جسے عدم کے سمندر پہ آپ نےصحرا تمام خاک کے اس بلبلے میں تھا

منت گزار اہل ہوس ہو سکا نہ دلحائل مرا ضمیر مرے راستے میں تھا

ہے فرض اس عطائے جنوں کا بھی شکریہلیکن یہ بے شمار کرم کس صلے میں تھا

اب آ کے کہہ رہے ہو کہ رسوائی سے ڈرویہ بال تو کبھی کا مرے آئینے میں تھا

سنتا ہوں سرنگوں تھے فرشتے مرے حضورمیں جانے اپنی ذات کے کس مرحلے میں تھا

ہیں ثبت میرے دل پہ زمانے کی ٹھوکریںمیں ایک سنگ راہ تھا جس راستے میں تھا

کچھ بھی نہ تھا ازل میں بجز شعلۂ وجودہاں دور تک عدم کا دھواں حاشیے میں تھا

میں نے جو اپنا نام پکارا تو ہنس پڑایہ مجھ سا کون شخص مرے راستے میں تھا

تھی نقطۂ نگاہ تک آزادئ عملپرکار کی طرح میں رواں دائرے میں تھا

زنجیر کی صدا تھی نہ موج شمیم زلفیہ کیا طلسم ان کے مرے فاصلے میں تھا

اب روح اعتراف بدن سے ہے منحرفاک یہ بھی سنگ میل مرے راستے میں تھا

دانشؔ کئی نشیب نظر سے گزر گئےہر رند آئنے کی طرح میکدے میں تھا

— احسان دانش