16 اشعار

کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی

Kuchh is tarah se tasawwur mein aa raha hai koi

کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی

«کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئی» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 57 سیکنڈ ہے۔

کچھ اس طرح سے تصور میں آ رہا ہے کوئیچراغ روح میں جیسے جلا رہا ہے کوئی

کوئی کلیم اٹھے ورنہ انتظار کے بعدچراغ طورمحبت بجھا رہا ہے کوئی

وہ دیر کا تھا کہ کعبے کا یہ نہیں معلوممری خودی کا محافظ خدا رہا ہے کوئی

جو روکنا ہو تو آ بڑھ کے روک لے ورنہترے حدود تغافل سے جا رہا ہے کوئی

رواں دواں نہیں بے وجہ کاروان حیاتمجھے ضرور کہیں سے بلا رہا ہے کوئی

بدل رہے ہیں جنون و خرد کے پیمانےکس اہتمام تغیر سے آ رہا ہے کوئی

نہ کچھ ملال‌ اسیری نہ خطرۂ صیادقفس سمجھ کے نشیمن بنا رہا ہے کوئی

زمین و چرخ نے انکار کر دیا جس سےوہ بار دوش وفا پر اٹھا رہا ہے کوئی

جہان نو میں برنگ کشاکش پیہمحیات نو کے سلیقے سکھا رہا ہے کوئی

خبر کرو یہ حقائق کے پاسبانوں کومجاز کھو کے حقیقت میں آ رہا ہے کوئی

نہ جانے کون سی منزل میں عشق ہے کہ مجھےمرے حدود سے باہر بلا رہا ہے کوئی

ڈرو خدا سے بڑا بول بولنے والوقریب ہم سے بھی بے انتہا رہا ہے کوئی

مجھے ستم میں اضافے کا غم نہیں لیکنیقین کر کہ مرے بعد آ رہا ہے کوئی

نگاہ و لب میں ہنسی کی سکت نہیں لیکنبہ جبر عشق و وفا مسکرا رہا ہے کوئی

یہ صبح و شام کی یورش یہ موسموں کی روشکہ جیسے میرے تعاقب میں آ رہا ہے کوئی

کسی کو اس کی خبر ہی نہیں تھی کچھ احسانؔکہ مٹ کے اپنا زمانہ بنا رہا ہے کوئی

— احسان دانش