8 اشعار

بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے

Bichhad kar un se yun gham mein guzari zindagi ham ne

بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے

«بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

بچھڑ کر ان سے یوں غم میں گزاری زندگی ہم نےسحر تاریک دیکھی سرخ پائی چاندنی ہم نے

ہمیں دعویٰ نہیں تنہا نباہی دوستی ہم نےمحبت کو سنبھالا ہے کبھی تم نے کبھی ہم نے

خوشی غم میں نظر آئی خوشی میں غم نظر آیاابھی دنیا پہ ڈالی تھی نگاہ سرسری ہم نے

بڑی بے چارگی نکلی بہت ہی نارسی پائیازل کے روز بڑھ کر لے تو لی تھی بندگی ہم نے

جہاں ساز محبت پر مغنی گا نہیں سکتاوہاں نغمہ الاپا ہے کبھی تم نے کبھی ہم نے

تمہیں ہو گے نگاہ شوق کا مرکز تمہیں ہو گےاگر اس زندگی کے بعد پائی زندگی ہم نے

ہمارے سامنے ہر وقت انجام شکایت تھیکہی کو ان کہی کر دی سنی کو ان سنی ہم نے

بھرے گی اس میں رنگ احسانؔ دنیا انقلابوں سےلہو سے اپنے اک تصویر ایسی کھینچ دیں ہم نے

— احسان دانش