7 اشعار

جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گا

Jab bhi khalwat mein wo yaad aayega

جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گا

«جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جب بھی خلوت میں وہ یاد آئے گاوقت کا سیل ٹھہر جائے گا

چاند تم دیکھ رہے ہو جس کویہ بھی آنسو سا ڈھلک جائے گا

ایک دو موڑ ہی مڑ کر انساںبام گردوں کی خبر لائے گا

میں نے دیکھے ہیں چمن بے پردہکوئی گل کیا مرے منہ آئے گا

حسن سے دور ہی رہنا بہترجو ملے گا وہی پچھتائے گا

اور کچھ دیر ستارو ٹھہرواس کا وعدہ ہے ضرور آئے گا

ان کی زلفوں کی مہک لے دانشؔاس دھندلکے کو کہاں پائے گا

— احسان دانش