8 اشعار

رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کر

Rahe jo zindagi mein zindagi ka aasra ho kar

رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کر

«رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کر» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کروہی نکلے سریر آرا قیامت میں خدا ہو کر

حقیقت در حقیقت بت کدے میں ہے نہ کعبہ میںنگاہ شوق دھوکے دے رہی ہے رہنما ہو کر

مآل کار سے گلشن کی ہر پتی لرزتی ہےکہ آخر رنگ و بو اڑ جائیں گے اک دن ہوا ہو کر

ابھی کل تک جوانی کے خمستاں تھے نگاہوں میںیہ دنیا دو ہی دن میں رہ گئی ہے کیا سے کیا ہو کر

مرے سجدوں کی یا رب تشنہ کامی کیوں نہیں جاتییہ کیا بے اعتنائی اپنے بندے سے خدا ہو کر

سرشت دل میں کس نے کوٹ کر بھر دی ہے بیتابیازل میں کون یا رب مجھ سے بیٹھا تھا خفا ہو کر

یہ پچھلی رات یہ خاموشیاں یہ ڈوبتے تارےنگاہ شوق بہکی پھر رہی ہے التجا ہو کر

بلا سے کچھ ہو ہم احسانؔ اپنی خو نہ چھوڑیں گےہمیشہ بے وفاؤں سے ملیں گے با وفا ہو کر

— احسان دانش