20 اشعار

دل کی رغبت ہے جب آپ ہی کی طرف

Dil ki raghbat hai jab aap hi ki taraf

دل کی رغبت ہے جب آپ ہی کی طرف

«دل کی رغبت ہے جب آپ ہی کی طرف» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

دل کی رغبت ہے جب آپ ہی کی طرفکس لیے آنکھ اٹھتی کسی کی طرف

کیسی الجھن ہے بازی گہہ شوق میںہم ہیں ان کی طرف وہ کسی کی طرف

صرف اشک و تبسم میں الجھے رہےہم نے دیکھا نہیں زندگی کی طرف

ہم جو غول بیاباں سے واقف نہیںچل دیے دور کی روشنی کی طرف

دیر و کعبہ سے پیاسی جبینیں لیےآ گئے ہم تری بندگی کی طرف

رات ڈھلتے جب ان کا خیال آ گیاٹکٹکی بندھ گئی چاندنی کی طرف

جب نہ قصد خودی کے دریچے کھلےاہل دل ہو لیے بے خودی کی طرف

ہم نے دل کی لگی ان سے کی تھی بیاںبات وہ لے گئے دل لگی کی طرف

جادۂ آگہی پر بڑی بھیڑ تھیسیکڑوں مڑ گئے گمرہی کی طرف

ہیں مرے حلقہ علم میں بالیقیںآسماں کے پیام آدمی کی طرف

ان کے جلووں کی جانب نظر اٹھ گئیموج تھی بڑھ گئی چاندنی کی طرف

کون سا جرم ہے کیا ستم ہو گیاآنکھ اگر اٹھ گئی آپ ہی کی طرف

جانے وہ ملتفت ہوں کدھر بزم میںآنسوؤں کی طرف یا ہنسی کی طرف

اس کے پندار خود آگہی پر نہ جادیکھ انساں کی بے چارگی کی طرف

اپنے ماحول میں کیوں اندھیرا کریںدیر تک دیکھ کر روشنی کی طرف

موت کی راہ آسان ہو جائے گیپیار سے دیکھیے زندگی کی طرف

ہم جنوں مند بھی اتنے واقف تو ہیںعقل کا رخ ہے وارفتگی کی طرف

شاعری کی کسی منزل درد میںاک دریچہ ہے پیغمبری کی طرف

جانے آنکھوں نے آنکھوں سے کیا کچھ کہازندگی جھک گئی زندگی کی طرف

دانشؔ انکار خالق سے ہوتا نہیںدیکھتا ہوں میں جب آدمی کی طرف

— احسان دانش