11 اشعار

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے

Ranaayi-e-kaunain se bezaar hamein thhe

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے

«رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھےہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے

ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوستدنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے

اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشرگویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے

دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہاراراتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے

بازار ازل یوں تو بہت گرم تھا لیکنلے دے کے محبت کے خریدار ہمیں تھے

کھٹکے ہیں ترے سارے گلستاں کی نظر میںسب اپنی جگہ پھول تھے اک خار ہمیں تھے

ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نےجی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے

ہے آج وہ صورت کہ بنائے نہیں بنتیکل نقش دو عالم کے قلم کار ہمیں تھے

پچھتاؤگے دیکھو ہمیں بیگانہ سمجھ کرمانوگے کسی وقت کہ غم خوار ہمیں تھے

ارباب وطن خوش ہیں ہمیں دل سے بھلا کرجیسے نگہ و دل پہ بس اک بار ہمیں تھے

احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کاچاہا تھا انہیں ہم نے خطاوار ہمیں تھے

— احسان دانش