12 اشعار

وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا

Wafaen kar ke jafaon ka gham utthaye ja

وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا

«وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جااسی طرح سے زمانے کو آزمائے جا

کسی میں اپنی صفت کے سوا کمال نہیںجدھر اشارۂ فطرت ہو سر جھکائے جا

وہ لو رباب سے نکلی دھواں اٹھا دل سےوفا کا راگ اسی دھن میں گنگنائے جا

نظر کے ساتھ محبت بدل نہیں سکتینظر بدل کے محبت کو آزمائے جا

خودی عشق نے جس دن سے کھول دیں آنکھیںہے آنسوؤں کا تقاضا کہ مسکرائے جا

نہیں ہے غم تو محبت کی تربیت ناقصحوادث آئیں تو نرمی سے پیش آئے جا

تھی ابتدا میں یہ تادیب مفلسی مجھ کوغلام رہ کے غلامی پہ مسکرائے جا

بدل نہ راہ خرد کے فریب میں آ کرجنوں کے نقش قدم پر قدم بڑھائے جا

امید و یاس میں جینا ہے عشق کا مقصوداسی مقام مقدس پہ تلملائے جا

چمن میں فرصت و تسکیں ہے موت کا پیغامسکوں پسند نہ کر آشیاں بنائے جا

یہی ہے لطف محبت یہی ہے کیف حیاتحقیقتوں کی بنا پر فریب کھائے جا

وفا کا خواب ہے احسانؔ خواب بے تعبیروفائیں کر کے مقدر کو آزمائے جا

— احسان دانش