14 اشعار

ہجوم رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہے

Hujoom-e-ranj se dil ko masarrat hoti jaati hai

ہجوم رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہے

«ہجوم رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

ہجوم رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہےکہ مجھ پر آئنہ اپنی حقیقت ہوتی جاتی ہے

یہ کس تعمیر ناقص کی بھری جاتی ہیں بنیادیںکہ دنیا بے چراغ آدمیت ہوتی جاتی ہے

وہ بے پردہ حریم شاعری میں آتے جاتے ہیںمرتب میری تاریخ‌‌ محبت ہوتی جاتی ہے

میں جتنا ان کے اسباب جفا پر غور کرتا ہوںمجھے اپنی وفاؤں پر ندامت ہوتی جاتی ہے

بہ ایں حالات مایوسی بہ ایں اوصاف محرومیمحبت ہے کہ محتاج محبت ہوتی جاتی ہے

زباں سی لیں ترے کہنے سے لیکن اس کو کیا کیجےشکایت جب نہیں ہوتی حکایت ہوتی جاتی ہے

ہے میرا عشق یک در گیر محکم گیر سے بالامری نظروں میں دنیا خوب صورت ہوتی جاتی ہے

ارے توبہ گناہوں کے سیہ خوابوں سے بیداریکہ آنکھیں کھلتی جاتی ہیں ندامت ہوتی جاتی ہے

یوں ہی تجدید پیمان وفا کیجے مرے ہم دمبڑی آسان تشریح محبت ہوتی جاتی ہے

محبت رفتہ رفتہ ڈھل رہی ہے وضع داری میںیہ کس رفتار سے برپا قیامت ہوتی جاتی ہے

جسے تصویر کہنا کفر ہے آئین الفت میںوہی تنویر معبود محبت ہوتی جاتی ہے

مآل رنج و راحت دیکھتا جاتا ہے دل جتناتمنا ماورائے رنج و راحت ہوتی جاتی ہے

نہ ہو میرے نہ تم مجھ کو کسی کا ہونے دیتے ہوقیامت کیا یہ بالائے قیامت ہوتی جاتی ہے

بحمد اللہ میں احسانؔ اس منزل پہ آ پہنچامصیبت جب نہیں ہوتی مصیبت ہوتی جاتی ہے

— احسان دانش