7 اشعار

سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیا

Soz-e-junoon ko dil ki ghiza kar diya gaya

سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیا

«سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

سوز جنوں کو دل کی غذا کر دیا گیااک زہر جاں طلب کو دوا کر دیا گیا

ناسور بھر سکے نہ فغاں ضبط ہو سکیجب نے کو نیستاں سے جدا کر دیا گیا

اہل وفا میں موت کی تلخی کو سر بسرقنداب زندگی سے سوا کر دیا گیا

ازبر کرا دیا ہے خزاں کو نصاب گلصرصر کو درس دے کے صبا کر دیا گیا

سورج سے رنگ رنگ کی کرنیں بکھیر کرمٹی کا زرد کھیت ہرا کر دیا گیا

لہکی اذان بجنے لگے راستوں کے فرشکرنوں کو قید شب سے رہا کر دیا گیا

روح بہار خون شہیداں کا رنگ دیکھخاک چمن کو لالہ قبا کر دیا گیا

— احسان دانش